5 اشعار

آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے

Aap kyon baithe hain ghusse mein meri jaan bhare

آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے

«آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرےیہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرے

جان سے جائے اگر آپ کو چاہے کوئیدم نکل جائے جو دم آپ کا انسان بھرے

لیے پھرتے ہیں ہم اپنے جگر و دل دونوںایک میں درد بھرے ایک میں ارمان بھرے

دامن‌ دشت نے آنسو بھی نہ پوچھے افسوسمیں نے رو رو کے لہو سیکڑوں میدان بھرے

تیغ قاتل کو گلے سے جو لگایا مضطرؔکھنچ کے بولی کہ بڑے آئے تم ارمان بھرے

— مضطر خیرآبادی