6 اشعار

کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا

Kaise dil lagta haram mein daur-e-paimana na tha

کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا

«کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھااس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا

تم نے دیکھی ہی نہیں تقدیر کی تاریکیاںاک اندھیری گور تھی فرقت میں کاشانہ نہ تھا

مجمع بیت الحرم کی دھوم سنتے تھے مگرجا کے جب دیکھا تو ان میں کوئی فرزانہ نہ تھا

حشر میں اس شوخ کا طرز تغافل دیکھنامجھ کو پہچانا نہیں حالانکہ بیگانہ نہ تھا

حشر میں آخر اسے بھی چھوڑتے ہی بن پڑیخانۂ‌ مدفن بھی گویا اپنا کاشانہ نہ تھا

ایسی کیا بیتی کہ مضطرؔ ان بتوں پر مر مٹاجان دے دیتا وہ کچھ ایسا تو دیوانہ نہ تھا

— مضطر خیرآبادی