عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاں
کلام: انعام اللہ خاں یقین
عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاں
چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کردے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں
دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین
مہمان شاعر: انعام اللہ خاں یقین
عمر آخر ہے جنوں کر لوں بہاراں پھر کہاںہاتھ مت پکڑو مرا یارو گریباں پھر کہاں
چشم تر پر گر نہیں کرتا ہوا پر رحم کردے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاں
کب سنے زنجیر مجھ مجروح دیوانے کی عرضنیں پہنچتی کان تک اس زلف کے شانے کی عرض
گرمی اہل بزم سے مت کر کہ میں ہوتا ہوں داغشمع کی خدمت میں ہے اتنی ہی پروانے کی عرض
جب کام عشق ہےپھر کیادن ہے رات کیا ہےنہیں کام عشق سے کچھ تو پھر حیات کیا ہے
میری خبر کس طرح دے میرا ظاہری لبادہمیری روح بتائے گی میری اصل ذات کیا ہے