26 اشعار

کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا

KyoN dil ko dhadakna yaad aaya

کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا

«کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا» نا معلوم کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

جب درد پرانے ہو بیٹھےجب`یاد کا جگنو راکھ ہوا

جب آنکھ میں آنسو برف ہوےجب زخم سے دل مانوس ہوا

تب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوںپھر دل کو دھڑکنا یاد آیا !

جب کرب کی لمبی راہوں میںاحساس کے بال سفید ہوے

جب آنکھیں 'بے سیلاب ہوئیںجب چاند چڑھا بے دردی کا

جب ریت پہ لکھی یادوں کوبے مہر ہوا نے چھین لیا

جب 'یاد رتیں' بے داد ہوئیںتب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں!!

پھر دل کو دھڑکنا یاد آیاجب آنکھیں کچھ آباد ہوئیں

جب مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوںاحساس کا بچپن جاگ پڑا

پھرجذبے بے تقویم ہوے!پھر وقت نے کچھ انگڑائی لی

پھر سوچ کی قبر سےدھول اڑیپھرپیاس کا برزخ بھول گیا

ایک ہجر سےکیا آزاد ہوے؟سو ہجر نے ایجاد ہوے!

پھر اشک میں دریا قید ہواپھر دھڑکن میں بھونچال پڑے

پھر عشق کاجوگی گلیوں میں..تقدیر کے سانپ اٹھا لایا

پھر ہوش کا جنگل سبز ہواپھر `شوق درینہ جاگ اٹھا.

پھر زلف کے تیور شام بنےاس شام میں پھرمہتاب چڑھا

پھر ہونٹ کی لرزش , گیت بنیپھر شعر، شعور کا ورد ہوا

پھر خون سے لکھے جذبے بھی نیلام ہوۓپھر درد "زلیخا "بن بیٹھا

پھر قرب کا کرب جوان ہواپھر مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں

کچھ ہجر کی نبضیں تیز ہوئیںجب قید کو تازہ عمر ملی

اس قیدی عمر کے بختوں نے.اک شامِ سہور سے پوچھ لیا

قید ہی رہنا تھا ...تو ہمیںوہ پچھلا ہجر ہی کافی تھا

کیوں پچھلے جال کو چھوڑا تھاکس عھد پہ پنجرہ توڑا تھا؟

جب جال تیری کمزوری تھے ..صیّاد کو کیوں بدنام کیا

اب سوچ رہا ہوں مدّت سےکیوں مجھ پہ کھلا میں زندہ ہوں؟

کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا...

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں