28 اشعار

مجھ سے باتیں کرو زندگی

Mujh se baatei'n karo zindagi

مجھ سے باتیں کرو زندگی

«مجھ سے باتیں کرو زندگی» نا معلوم کا کلام ہے، جسے عمارہ قاضی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

مجھ سے باتیں کرو زندگیتم بھی شطرنج ہو

اور عجلت میں آگے بڑھایا ہوا ایک پیادہ ہوں میںوقت کی چال ہے

اور کب کیوں کہاں کی بھی مہلت نہیںزندگی زندگی

میں پریشان ہوںمٹھیوں سے سرکتی ہوئی ریت سے

ریت ہی ریت ہےمیرے چاروں طرفاور کچھ بھی نہیں

اور کوئی نہیںکوئی بھی تو نہیں

جس کو سمجھا سکوںگرچہ بہتات قلت سے زیادہ بھی ہو

پر وہ معصوم آنکھیں جو دہلیز سے جھانکتی رہ گئیںکچھ بھی ان کی کمی سے زیادہ نہیں

یہ جو میں ہوں یہ میں تو نہیں تھا کبھیمیں کوئی اور تھا

ایک حساس دلجو محبت سے بھرپور تھا ان دنوں

ان دنوں جب مجھے یہ بتایا گیازندگی شاعری اور محبت نہیں

زندگی دوڑ ہےدوڑ ورنہ برا وقت آ جائے گا

مڑ کے بھی دیکھنے کہ اجازت نہیںمڑ کے دیکھا تو بے وقت مر جائے گا

مجھ کو روندے ہوؤں کی مثالوں سے اتنا ڈرایا گیااور تصور میں بچوں کے فاقوں کا منظر دکھایا گیا

آج میں تھک گیا ہوں مگردوڑ میں روندے جانے کے ڈر سے ٹھہرتا نہیں

عمر کا یہ پہراک پہر ہی ہے لیکن گزرتا نہیں

وقت کہتی تھی دنیا، ٹھہرتا نہیںنیند کیا خواب کیا

اب تو کچھ بھی نہیںآنکھیں ویران ہیں

خوش گمانی بھی کیااک گماں ہی تو ہے

ایک سکہ جو دنیا میں چلتا نہیںاک سہولت جو دراصل حاصل نہیں

دوڑنا ہے مگر کوئی منزل نہیںزندگی تو امیدوں کی محتاج ہے

زندگی کل کی پرسوں کی کس کو خبرزندگی جو بھی ہے آج ہی آج ہے

ختم ہو گا کبھی کیا کہیں یہ سفریا یونہی دوڑتا جاؤں گا عمر بھر

میں پریشان ہوںوقت کی چال سے

اور کب کیوں کہاں کی بھی مہلت نہیںاس قدر خامشی ہے کہ دھڑکن کی آواز بھی شور ہے

کوئی تو بات ہوخود کلامی سہی

ان کہی ان سنیکتنی باتیں ہیں جو

نارسائی کے دفتر میں محصور ہیںمجھ سے باتیں کرو زندگی

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں