38 اشعار

کیا لگا تھا

Kya laga tha

کیا لگا تھاکہ خود کو مجھ میں نچوڑ دوگے

پھر ہم سے پوچھو گے غم ہمارےجب دل بھرے گا تو چھوڑ دو گے

بتاؤ!!! جاناں یہی لگا تھایہ بے ضرر سا جو ایک لڑکا

عاجزی کا لباس اوڑھےغلیظ لوگوں میں جی رہا ہے

بہا کہ آنسو عتاب عبرتبہت تسلی سے پی رہا ہے

بہت ہی چپ ہےتو چپ رہے گا

کہ روشنی بھی یہ کہ رہی تھیکہ اب اندھیرا بھی گپ رہے گا

تو ایسی سوچیں غلام دل سے نکال پھینکواگر اندھیرا یہاں پہ آئے

تو اس پہ میری وہ شال پھینکووہ شال جاناں !!!!

جو ہم نے سورج سےتیری خاطر ادھار لی تھی

کہ جس میں ہم نے خزاں چھپا کہتمھاری خاطر بہار لی تھی

اگر وہ پھر بھی نہ پیچھا چھوڑےتو اس کو کہنا

کہ مجھ کو ساقی نے یہ کہا تھاکہ روشنی کی نہ فکر کرنا

کسی سے میرا نہ ذکر کرنامیں اپنے حصے کی سارے جگنو

تمھارے قدموں میں ڈال دوں گاکہ اب اندھیرے نے تجھ کو دیکھا

تو اسکی آنکھیں نکال دوں گامگر زمانہ بدل چکا ہے

تمام چیزیں جو مفت لی تھیاب تم ان کا حصاب لکھو

کہ میں نے لکھا تھا ایک صفحہتم اس کے بدلے کتاب لکھو

لکھو کہ کیسے شراب چھوڑیلکھو کہ کیسے جناب چھوڑی

لکھو کہ کیسے وہ وعدے توڑےلکھو کہ کیسے یوں اپنے چھوڑے

لکھو کہ کیسے چلا تھا ساقیلکھو کہ کیسے جلا تھا ساقی

لکھو کہ کیسے وہ چپ رہا تھالکھو اندھیرا بھی گپ رہا تھا

مگر یہ لکھنے کے واسطےتمھیں بھی جلنا پڑے گا جاناں

تمھیں بھی میری طرحجی کی مرنا پڑے گا جاناں

مگر یہ تم سے کبھی بھی لیکننہ ہوسکا ہے نہ ہوسکے گا

کہ کوئی بھی اب سچ کا پیچھانہ کر رہا ہے نہ کرسکے گا

تو چھوڑو جاناں سوال سارےفقت تم اپنا جواب سن لو

میرا سارا عذاب سن لوکون ہوں میں !!!!!!!

اگر تم پوچھو گے میرا شجرہتو غزنوی کا عون ہوں میں

کبھی جو لٹکا تھا سولی پر وہانل حق جنون ہوں میں

کبھی میں سب کو جواب دے دوںکبھی سوال بدون ہوں میں

کبھی میں چیخوں بھڑک بھڑک کرکبھی سراپہ سکون ہوں میں

کبھی میں جھیلوں زمانے بھر کوکبھی شکستہ ستون ہوں میں

کبھی میں پڑھ لوں نمازیں ساریکبھی فرائض کا خون ہوں میں

اگر صفائی نہیں یہ کافیابھی بھی شک ہے کہ کون ہوں میں

تو فارہہ بھی یہ کہ رہی ہےنئے زمانے کا جون ہوں میں

سن لیا نہ کہ کون ہوں میںجون تھا وہ

جون ہوں میں !!!!!!!!!

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں