9 اشعار

تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہا

Tu kya hua jo aap ke, shumaar mein nahin raha

تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہا

«تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہا» نا معلوم کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں (علامہ اقبال)» میں 3 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہامیں مختلف سا شخص تھا ہزار میں نہیں رہا

یقین مانیے کہ جب سے آپ میرے ہو گئےتو یہ ہوا کہ ذائقہ، انار میں نہیں رہا

فقط یہ آپ کا گلہ نہیں ہے میرے محترمہمارے ساتھ جو رہا،،، قرار میں نہیں رہا

مجھے بھی عشق ہو دعائیں مانگتا تھا، اور پھرمیں دائرے میں آ گیاقطار میں نہیں رہا

وہ سوکھ کر بتا مجھے خزاں سے کیا گلہ کرےدرخت جو ہرا بھرابہار میں نہیں رہا

کبھی تو تیس کو خوشی خوشی سے یہ بتاؤں گامیں اس مہینے دیکھ ماں! ادھار میں نہیں رہا

شراب میں سرور کی تجھے سمجھ نہ آئے گیکہ تُو کسی کی آنکھ کے، خمار میں نہیں رہا

کسی کے روٹھنے سے رنگ زرد پڑ گیا میراوگرنہ دو گھڑی بھی میں بخار میں نہیں رہا

ستارہ ہو یا اشک ہو یہ طے شدہ سی بات ہےوہ ٹوٹ کر گرے گا جو مدار میں نہیں رہا

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں