16 اشعار

گمان سارے یقین کر کے

Gumaan saare yaqeen kar kar ke

گمان سارے یقین کر کے

«گمان سارے یقین کر کے» نا معلوم کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 41 سیکنڈ ہے۔

گمان سارے یقین کر کےسزا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

حیات میری مجھی میں رہناقضا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

صلے کا مجھ کو گلہ نہیںنہیں ملا تو نہیں سہی پر

وفا ہی میری نہ چھین لیناجفا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

یہ زلف ایسے ہے رخ پہ لپٹیسبو پہ جیسے عدو کا پہرہ

میں خود کو ڈستا پھروں ہمیشہبَلا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

ہزار نازوں میں پلنے والاکمال نخرے اُٹھا رہا ہے

ادا کا عادی بنانے والیخطا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

میں تیرا ہم راز تیرا ہم دمکبھی تو مجھ کو شریک کر لے

فریب مجھ کو دکھا دکھا کےدغا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

یہ ننھے جگنو میرے مُقّلدمیں مثلِ رہبر رہا ہوں لیکن

قبر کے کتبے پہ بیٹھا روئےدیا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

وجۂ صرصر تمہی سے سیکھییہ نرم خوہی بھی تم سے پائی

مگر نہ دیکھے جو دوست دشمنہوا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

ستم پرستی بجا ہے لیکننفس پرستی نہ ہو تو اچھا

انا پرستی سکھا سکھا کےخدا ہی مجھ کو بنا نہ دینا

— نا معلوم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں