وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا
کلام: نا معلوم
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نایہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا
یہ قالب اور الجبرا یہ کیسے لاگ لیتے ہوجمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نایہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا
یہ قالب اور الجبرا یہ کیسے لاگ لیتے ہوجمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو