6 اشعار

کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی

Kamar ki baat sunte hain ye kuch paayi nahin jaati

کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی

«کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی» ناجی شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتیکہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتی

جو چاہو سیر دریا وقف ہے مجھ چشم کی کشتیہر ایک موئے پلک میرا ہے گویا گھاٹ خیراتی

برنگ اس کے نہیں محبوب دل رونے کو عاشق کےسعادت خاں ہے لڑکا وضع کر لیتا ہے برساتی

جو کوئی اصلی ہے ٹھنڈا گرم یاقوتی میں کیونکر ہونہ لاوے تاب تیرے لب کی جو نامرد ہے ذاتی

نہ دیکھا باغ میں نرگس نیں تجھ کوں شرم جانے سیںاسی غم میں ہوئی ہے سرنگوں وہ وقت نہیں پاتی

کہاں ممکن ہے ناجیؔ سا کہ تقویٰ اور صلاح آوےنگاہ مست خوباں وہ نہیں لیتا خراباتی

— ناجی شاکر