7 اشعار

تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی

Tere bhaai ko chaha ab teri karta hoon pa-bosi

تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی

«تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی» ناجی شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسیمجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثی

رفو کر دے ہیں ایسا پیار جو عاشق ہیں یکسو سیںپھڑا کر اور سیں شال اپنی کہتا ہے مجھے تو سی

ہوا مخفی مزا اب شاہدی سیں شہد کی ظاہرمگر زنبور نے شیرینی ان ہونٹوں کی جا چوسی

کسے یہ تاب جو اس کی تجلی میں رہے ٹھہرارموز طور لاتی ہے سجن تیری کمر مو سی

سماتا نئیں ازار اپنے میں ابتر دیکھ رنگ اس کاکرے کمخواب سو جانے کی یوں پاتے ہیں جاسوسی

برنگ شمع کیوں یعقوب کی آنکھیں نہیں روشنزمانے میں سنا یوسف کا پیراہن تھا فانوسی

نہ چھوڑوں اس لب عرفاں کو ناجیؔ اور لٹا دوں سبملے گر مجھ کو ملک خسروی اور تاج کاؤسی

— ناجی شاکر