5 اشعار

دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو

Dil ka khoj na paaya hargiz dekha khol jo qabron ko

دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو

«دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو» ناجی شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کوجیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کو

توشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تکجب دکھلاوے زلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو

کافر نفس ہر ایک کا ترسا زر کوں پایا بختوں سیںآتش کی پوجا میں گزری عمر تمام ان گبروں کو

مرد جو عاجز ہو تن من سیں کہے خوش آمد باور کرمحتاجی کا خاصا ہے روباہ کرے ہے ببروں کو

وعدا چوک پھر آیا ناجیؔ درس کی خاطر پھڑکے متچھوٹ گلے تیرے اے ظالم صبر کہاں بے صبروں کو

— ناجی شاکر