5 اشعار

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

Ye daur guzra kabhi na dekhen piya ki ankhiyan khumaar matiyan

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

«یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں» ناجی شاکر کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاںکہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں

سوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغبتو برگ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں

صنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحتلگے ہے کانٹا نظر میں سونا کٹیں گی کیسے یہ کالی رتیاں

جو شمع رو کے دو لب ہیں شیریں تو سبزۂ خط بجا ہے اس پرزمین پکڑی ہے طوطیوں نے سنیں جو میٹھی پیا کی بتیاں

خیال کر کر بھٹک رہا ہوں نظر جو آئے تیور ہیں بانکےبناؤ بنتا نہیں ہے ناجیؔ جو اس سجن کو لگاؤں چھتیاں

— ناجی شاکر