نظم 11 اشعار

دیوار قہقہہ

Deewar-e-Qahqaha

دیکھو دیکھو!!اوپر سے نیچے تک دیکھو

آگے سے پیچھے تک دیکھوجنگل اور پہاڑ سے لے کر

گھر کے باغیچے تک دیکھوچڑیا باز ہما اور ققنس

ہر پنچھی کی بینائی سےحد فلک کی پہنائی سے

اڑتے غالیچے تک دیکھوشہروں میں دیہات میں دیکھو

دن میں دیکھو رات میں دیکھورستوں کی اطراف میں دیکھو

گدلے میں شفاف میں دیکھواندر دیکھو باہر دیکھو

پوشیدہ یا ظاہر دیکھودنیا کی اوقات میں دیکھو

اپنی اپنی ذات میں دیکھودیکھو دیکھو!!

اس نادید کو ہر سو دیکھوکچھ بھی نظر نہ آئے جب تو

اک تجرید کو ہر سو دیکھواور دیکھتے دیکھتے خوب ہنسو!!

— نصیر احمد ناصر