نظم 11 اشعار

بے خوابی کی آکاس بیل پر کھلی خواہش

Be-khwabi Ki Aakas Bail Par Khili Khwahish

مجھ کو سونے دوصدیوں جیسی گہری لمبی نیند

جس میں کوئی خواب نہ ہومجھ کو سونے دو

اس لڑکی کی نیندجو اپنی آنکھیں

میری آنکھوں میں رکھ کربھول گئی ہے!

مجھ کو سونے دوان لوگوں کی نیند

جن کی آنکھوں میںبادل اور پرندے اڑتے ہیں

دریا بہتے ہیںلیکن وہ پیاسے رہتے ہیں

مجھ کو سونے دوچاروں سمت بچھے صحراؤ!

میرے دل میں ایک سمندر ہےمجھ کو اس میں اپنے

سارے خواب ڈبونے دومجھ کو رونے دو!

مجھ کو سونے دو!!

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں