نظم 10 اشعار

اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو

Ajnabi Kis Khwab Ki Duniya Se Aaye Ho

اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہوتھکے لگتے ہو

آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیںفاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے

اجنبی! کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہوکون سے دیسوں کے قصے

درد کی خاموش لے میں گا رہے ہودور سے نزدیک آتے جا رہے ہو

اجنبی آؤ!کسی اگلے سفر کی رات سے پہلے

ذرا آرام کر لوپھر سنیں گے داستاں تم سے انوکھی سر زمینوں کی

ہوا میں تیرتے رنگیں مکانوں کی مکینوں کیپڑاؤ عمر بھر کا ہے

الاؤ تیز ہونے دومحبت خیز ہونے دو

شناسا خواہشوں کی خوشبوئیں جلنے لگی ہیںاجنبیت قربتوں کے لمس میں سرشار

گم گشتہ زمانے ڈھونڈھتی ہےزندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈھتی ہے!!

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں