نظم 20 اشعار

مرگ پیچ

Marg Peech

مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہےدوڑتا پھرتا ہوں

سارے کام نپٹانے کی جلدی ہےپہاڑوں اور جھیلوں کی خموشی سے

قدیمی گیت سننے ہیں پرانے داستانی بھید لینے ہیںدرختوں سے نموکاری کی بابت پوچھنا ہے

نت نئی شکلیں بناتے بادلوں کو دیکھنا ہےخوش نوا اچھے پرندوں سے

اڑن پھل کا پتا معلوم کرنا ہےعروسی بیل کے پھولوں کو چھونا ہے

در و دیوار سے باتیں بھی کرنی ہیںابھی کتنے ملاقی منتظر ہیں

ایک لمبی لسٹ ہے آنکھوں میں نادیدہ نظاروں کیفشار خون بڑھتا جا رہا ہے

اب کسی لمحے رگیں پھٹنے کا خطرہ ہےمگر مصروف ہوں سب کام نپٹانے کی جلدی ہے

سمندر نے بلایا ہےجزیرے اور ساحل بھی

کئی قرنوں سے مجھ کو یاد کرتے ہیںمچھیرے گیت گاتے بستیوں کو لوٹتے

مجھ کو بہت ہی ہانٹ کرتے ہیںکسی دن جاؤں گا ملنے

خزانوں کو اگلنے کے لیےبے تاب ہیں رقبے طلسمی سر زمینوں کے

سفر کے راستے معلوم ہیںنقشے پرانے کاٹھ کے صندوق میں محفوظ ہیں سب

دیو بانی بھی سمجھتا ہوںمگر مصروف ہوں

بچوں کے کتنے کام باقی ہیںکتابیں کاپیاں اسکول کے کپڑے نئے بستے

کھلونے بیٹ ریکٹاور بہت سی ان کہی چیزیں

خریدوں گا تو خوش ہوں گےمگر مصروف ہوں سب کام نپٹانے کی جلدی ہے

رگوں میں خون کی رفتار بڑھتی جا رہی ہےزندگی پر اک جنون مرگ طاری ہے

بہت مصروف ہوںسرپٹ لکھے جاتا ہوں نظمیں

مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے!!

— نصیر احمد ناصر