غزل 11 اشعار

جو نہیں اس جہاں کو روتے ہیں

Jo nahin us jahan ko rote hain

جو نہیں اس جہاں کو روتے ہیںحاصل رائیگاں کو روتے ہیں

دکھ زمیں کا تو بانٹ سکتے نہیںاور زمان و مکاں کو روتے ہیں

ریزہ ریزہ پڑا ہے آنکھوں میںغم کے کوہ گراں کو روتے ہیں

دل گرفتہ خموش راتوں میںشور ہائے سگاں کو روتے ہیں

موسموں کی بہار میں ہم سباپنی اپنی خزاں کو روتے ہیں

جا نکلتے ہیں غم زمانوں میںنیند میں رفتگاں کو روتے ہیں

وقت کے بے نوا مسافر ہمان سنی داستاں کو روتے ہیں

کشتیاں بھر گئیں سمندر سےہم ابھی بادباں کو روتے ہیں

ہم زمینوں پہ رینگنے والےکس لیے آسماں کو روتے ہیں

کچھ بھی ہوتا نہیں جو رونے کوبے سبب این و آں کو روتے ہیں

اپنے ملبے پہ بیٹھ کر ناصرؔدر و دیوار جاں کو روتے ہیں

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں