غزل 8 اشعار

میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو

Main sochta rahta hun dimaghon mein nahin jo

میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جوہے کون سا وہ پھول کہ باغوں میں نہیں جو

ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سےوہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو

دیکھو نہ مرا جسم مری روح جلی تھییہ داغ ہے وہ جلد کے داغوں میں نہیں جو

پانی میں زمینوں پہ ہوا میں اسے کھوجاوہ کیسا نشاں ہے کہ سراغوں میں نہیں جو

اک کار مسلسل ہے اسے چاہتے رہنالطف اس کا لگاتار ہے ناغوں میں نہیں جو

اس محفل احباب کی سرشاری عجب ہےوہ مے بھی چھلک جائے ایاغوں میں نہیں جو

رنگت ہی نہیں آب و ہوا کا بھی اثر ہےبگلوں میں کوئی بات ہے زاغوں میں نہیں جو

ناصرؔ ہیں عجب بولیاں طاؤس زماں کیاشجار کے پر غول کلاغوں میں نہیں جو

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں