غزل 8 اشعار

سنگ خارا ہے آئینہ میرا

Sang-e-khaara hai aaina mera

سنگ خارا ہے آئینہ میراایک بچہ ہے ہم نوا میرا

بادلوں میں ہے گھونسلہ میرابھر گیا ہے برآمدہ میرا

ایک تیرا ہے دوسرا میرازخم اندر سے ہے ہرا میرا

سب کو معلوم ہے پتا میراکون چکھے گا ذائقہ میرا

حجرۂ ذات ہے کھلا میراٹوٹ جاتا ہے رابطہ میرا

چلنے لگتا ہے نقش پا میراسایہ سائے پہ آ گرا میرا

پھیل جاتا ہے دائرہ میراجسم فانی ہے بھربھرا میرا

کائناتی ہے فاصلہ میراعین منزل سے راستہ میرا

— نصیر احمد ناصر