غزل 9 اشعار

چھجے ہیں سائبان ہیں آگے بڑھے ہوئے

Chhajje hain saeban hain aage badhe hue

چھجے ہیں سائبان ہیں آگے بڑھے ہوئےگلیوں کے سب مکان ہیں آگے بڑھے ہوئے

پس ماندگی عوام کے پیچھے پڑی ہوئیدو چار خاندان ہیں آگے بڑھے ہوئے

رستہ تو رک گیا ہے سر منزل گماںقدموں کے کچھ نشان ہیں آگے بڑھے ہوئے

گھیرا ہوا ہے چاروں طرف سے زمین کوحد سے یہ آسمان ہیں آگے بڑھے ہوئے

خود چل کے آ گیا ہے نشانہ قریب ترحیرت سے دید بان ہیں آگے بڑھے ہوئے

پیچھے کمان دار پریشان ہے بہتپلٹن کے کچھ جوان ہیں آگے بڑھے ہوئے

آیا ہوں دوستوں سے ملاقات کے لئےکیوں تیر اور کمان ہیں آگے بڑھے ہوئے

آتا نہیں شکار شکاری کے سامنےجنگل سے کچھ مچان ہیں آگے بڑھے ہوئے

مٹی کے سب ظروف ہیں پیچھے رکھے ہوئےشیشے کے مرتبان ہیں آگے بڑھے ہوئے

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں