غزل 11 اشعار

ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے

Sitara sham se nikla hua hai

ستارہ شام سے نکلا ہوا ہےدیا بھی طاق میں رکھا ہوا ہے

کہیں وہ رات بھی مہکی ہوئی ہےکہیں وہ چاند بھی چمکا ہوا ہے

ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہےابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے

کسی بادل کو چھو کر آ رہی ہےہوا کا پیرہن بھیگا ہوا ہے

زمیں بے عکس ہو کر رہ گئی ہےفلک کا آئنہ میلا ہوا ہے

خموشی جھانکتی ہے کھڑکیوں سےگلی میں شور سا پھیلا ہوا ہے

ہوا گم صم کھڑی ہے راستے میںمسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے

کوئی نیندوں میں خوشبو گھولتا ہےدریچہ خواب کا مہکا ہوا ہے

کسی گزرے برس کی ڈائری میںتمہارا نام بھی لکھا ہوا ہے

چراغ شام کی آنکھیں بجھی ہیںستارہ خواب کا ٹوٹا ہوا ہے

سفر کی رات ہے ناصرؔ دلوں میںعجب اک درد سا ٹھہرا ہوا ہے

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں