غزل 5 اشعار

درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی

Dard ke pile gulabon ki thakan baqi rahi

درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہیجاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی

پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگرٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی

دید کی آسودگی میں کون کیسے دیکھتادرمیاں کتنے حجابوں کی تھکن باقی رہی

فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئےدرس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی

بارشیں ہوتی رہیں ناصرؔ سمندر کی طرفریگزاروں میں سرابوں کی تھکن باقی رہی

— نصیر احمد ناصر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں