10 اشعار

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں

Diya sa dil ke kharaabe mein jal raha hai miyan

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں

«دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاںدیے کے گرد کوئی عکس چل رہا ہے میاں

یہ روح رقص چراغاں ہے اپنے حلقے میںیہ جسم سایہ ہے اور سایہ ڈھل رہا میاں

یہ آنکھ پردہ ہے اک گردش تحیر کایہ دل نہیں ہے بگولہ اچھل رہا ہے میاں

کبھی کسی کا گزرنا کبھی ٹھہر جانامرے سکوت میں کیا کیا خلل رہا ہے میاں

کسی کی راہ میں افلاک زیر پا ہوتےیہاں تو پاؤں سے صحرا نکل رہا ہے میاں

ہجوم شوخ میں یہ دل ہی بے غرض نکلاچلو کوئی تو حریفانہ چل رہا ہے میاں

تجھے ابھی سے پڑی ہے کہ فیصلہ ہو جائےنہ جانے کب سے یہاں وقت ٹل رہا ہے میاں

طبیعتوں ہی کے ملنے سے تھا مزہ باقیسو وہ مزہ بھی کہاں آج کل رہا ہے میاں

غموں کی فصل میں جس غم کو رائیگاں سمجھیںخوشی تو یہ ہے کہ وہ غم بھی پھل رہا ہے میاں

لکھا نصیرؔ نے ہر رنگ میں سفید و سیاہمگر جو حرف لہو میں مچل رہا ہے میاں

— نصیر ترابی