10 اشعار

میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤں

Main bhi ae kaash kabhi mauj-e-saba ho jaaun

میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤں

«میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤں» نصیر ترابی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 30 سیکنڈ ہے۔

میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤںاس توقع پہ کہ خود سے بھی جدا ہو جاؤں

ابر اٹھے تو سمٹ جاؤں تری آنکھوں میںدھوپ نکلے تو ترے سر کی ردا ہو جاؤں

آج کی رات اجالے مرے ہمسایہ ہیںآج کی رات جو سو لوں تو نیا ہو جاؤں

اب یہی سوچ لیا دل میں کہ منزل کے بغیرگھر پلٹ آؤں تو میں آبلہ پا ہو جاؤں

پھول کی طرح مہکتا ہوں تری یاد کے ساتھیہ الگ بات کہ میں تجھ سے خفا ہو جاؤں

جس کے کوچے میں برستے رہے پتھر مجھ پراس کے ہاتھوں کے لیے رنگ حنا ہو جاؤں

آرزو یہ ہے کہ تقدیس ہنر کی خاطرتیرے ہونٹوں پہ رہوں حمد و ثنا ہو جاؤں

مرحلہ اپنی پرستش کا ہو درپیش تو میںاپنے ہی سامنے مائل بہ دعا ہو جاؤں

تیشۂ وقت بتائے کہ تعارف کے لیےکن پہاڑوں کی بلندی پہ کھڑا ہو جاؤں

ہائے وہ لوگ کہ میں جن کا پجاری ہوں نصیرؔہائے وہ لوگ کہ میں جن کا خدا ہو جاؤں

— نصیر ترابی