7 اشعار

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم

Aasmanon se zameen ki taraf aate hue hum

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہمایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم

کس گماں میں ہیں ترے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگدیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم

کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہےتیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم

ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والییاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم

توڑ ڈالیں گے کسی دن گھنے جنگل کا غرورلکڑیاں چنتے ہوئے آگ جلاتے ہوئے ہم

تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسےدیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم

خود کو یاد آتے ہی بے ساختہ ہنس پڑتے ہیںکبھی خط تو کبھی تصویر جلاتے ہوئے ہم

— نعمان شوق