7 اشعار

بات پھر نکلی نئی اک بات سے

Baat phir nikli nayi ik baat se

بات پھر نکلی نئی اک بات سےلفظ آگے بڑھ گئے اوقات سے

میں ہوں صدیوں کا اندھیرا میری جانآپ تو جاگے ہوئے ہیں رات سے

پانیوں نے پانیوں سے جنگ کیآج پھر آنکھیں لڑیں برسات سے

تم دھرے بیٹھے رہو ہاتھوں پہ ہاتھدرد بھی اب جا رہا ہے ہاتھ سے

عالم بالا میں کیسی شاعریداد لیں کیا حور سے جنات سے

تم برستے بھی نہیں ہو کھل کے اباور کیا مانگا کریں برسات سے

آیا سجدے میں یہ بیہودہ خیالاتنی امید اک خدا کی ذات سے

— نعمان شوق