5 اشعار

لاکھ کوئی چیخے چلائے شور اندر کب آتا ہے

Laakh koi cheekhe chillaye shor andar kab aata hai

لاکھ کوئی چیخے چلائے شور اندر کب آتا ہےان کی بستی کے نقشے میں اپنا گھر کب آتا ہے

جانے کب سے جاگ رہے ہیں بس اتنا بتلا دو ابجس کے خواب دکھاتے ہو تم وہ منظر کب آتا ہے

گمراہی پھیلانے والے روز اندھیرا لاتے ہیںروز ہدایت دینے والا پیغمبر کب آتا ہے

اس کی آنکھیں پل دو پل ہی تو چہرے سے ہٹتی ہیںدل کا سارا درد سمٹ کر ہونٹھوں پر کب آتا ہے

وہ تو یہ ہی کہیں گے سارا جنگل بالکل چین سے ہےان کی شاخ پہ کوئی پرندہ خون میں تر کب آتا ہے

— نعمان شوق