7 اشعار

دوسرے نام سے جیا جائے

Doosre naam se jiya jaaye

دوسرے نام سے جیا جائےزہر شہرت ہے کیوں پیا جائے

ہار مانے پہ وار کیا کرناعقل کو راستہ دیا جائے

یہ بھی ممکن ہے مر مٹیں تم پریہ بھی ممکن ہے جی لیا جائے

اور کچھ ذہن سے نکلتا نہیںیعنی خود کو بھلا دیا جائے

آج یوم شہادت حق ہےآج چپ چاپ رہ لیا جائے

جسم کے جاگنے کا وقت ہے یہاب مجھے لوٹنے دیا جائے

خوش گمانی کے جل چکے باغاتاب تو قبلہ بدل لیا جائے

— نعمان شوق