6 اشعار

ثانی نہیں تھا اس کا کوئی بانکپن میں رات

Saani nahin tha is ka koi baankpan mein raat

ثانی نہیں تھا اس کا کوئی بانکپن میں راتانگڑائی لے کے جاگ اٹھی تھی بدن میں رات

بیہودہ روشنی کی اذیت تھی شہر میںسو ہم نے طے کیا کہ گزاریں گے بن میں رات

کل تم نے حال بھی نہیں پوچھا غریب کاکس طرح کاٹنی پڑی اپنے بدن میں رات

جس نے سبھی کو رنگ لیا اپنے رنگ میںسچ پوچھیے تو طاق ہے بس ایک فن میں رات

اوقات مہر و ماہ کی معلوم تب ہوئیجب ہم گزار آئے تری انجمن میں رات

چنتا رہا تمام شب اس کے بدن سے پھولایسا لگا کہ تھم سی گئی ہو چمن میں رات

— نعمان شوق