12 اشعار

اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے

Uda kar kaag shisha se may-e-gulgoon nikalti hai

اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے

«اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہےشرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہے

بہار مے کشی آئی چمن کی رت بدلتی ہےگھٹا مستانہ اٹھتی ہے ہوا مستانہ چلتی ہے

زخود رفتہ طبیعت کب سنبھالے سے سنبھلتی ہےنہ بن آتی ہے ناصح سے نہ کچھ واعظ کی چلتی ہے

یہ کس کی ہے تمنا چٹکیاں لیتی ہے جو دل میںیہ کس کی آرزو ہے جو کلیجہ کو مسلتی ہے

وہ دیوانہ ہے جو اس فصل میں فصدیں نہ کھلوائےرگ ہر شاخ گل سے خون کی ندی ابلتی ہے

سحر ہوتے ہی دم نکلا غش آتے ہی اجل آئیکہاں ہوں میں نسیم صبح پنکھا کس کو جھلتی ہے

تمتع ایک کا ہے ایک کے نقصاں سے عالم میںکہ سایہ پھیلتا جاتا ہے جوں جوں دھوپ ڈھلتی ہے

بنا رکھی ہے غم پر زیست کی یہ ہو گیا ثابتنہ لپکا آہ کا چھوٹے گا جب تک سانس چلتی ہے

قرار اک دم نہیں آتا ہے خون بے گنہ پی کرکہ اب تو خود بہ خود تلوار رہ رہ کر اگلتی ہے

جہنم کی نہ آنچ آئے گی مے خواروں پہ او واعظشراب آلودہ ہو جو شے وہ کب آتش میں جلتی ہے

نہ دکھلانا الٰہی ایک آفت ہے شب فرقتنہ جو کاٹے سے کٹتی ہے نہ جو ٹالے سے ٹلتی ہے

یہ اچھا شغل وحشت میں نکالا تو نے اے حیدرؔگریباں میں الجھنے سے طبیعت تو بہلتی ہے

— نظم طباطبائی