13 اشعار

سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی

Subha hai zunnar kyun kaisi kahi

سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی

«سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہیزاہد عیار کیوں کیسی کہی

کٹ گئے اغیار کیوں کیسی کہیچھا گئی ہر بار کیوں کیسی کہی

ہیں یہ سب اقرار جھوٹے یا نہیںکیجئے اقرار کیوں کیسی کہی

روٹھنے سے آپ کا مطلب یہ ہےاس کو آئے پیار کیوں کیسی کہی

کہہ دیا میں نے سحر ہے جھوٹ موٹہو گئے بیدار کیوں کیسی کہی

ایک تو کہتے ہیں صدہا بھپتیاںاور پھر اصرار کیوں کیسی کہی

ناصحا یہ بحث دیوانوں کے ساتھعقل کی ہے مار کیوں کیسی کہی

یا خفا تھے یا ذرا سی بات پرہو گئی بوچھار کیوں کیسی کہی

مجھ سے بیعت کر لے تو بھی واعظاہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی

سرمہ دے کر دل کے لینے کا ہے قصدآنکھ تو کر چار کیوں کیسی کہی

جان دے دے چل کے در پر یار کےاو دل بیمار کیوں کیسی کہی

کیا ہی بگڑے ہو پتے کی بات پرہو گئے بیزار کیوں کیسی کہی

اب تو حیدرؔ اور ہی کچھ رنگ ہیںمانتا ہوں یار کیوں کیسی کہی

— نظم طباطبائی