14 اشعار

یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا

Ye hua maal-e-habab ka jo hawa mein bhar ke ubhar gaya

یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا

«یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 54 سیکنڈ ہے۔

یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیاکہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیا

مجھے جذب دل نے اے جز بہک کے رکھا قدم کوئیمجھے پر لگائے شوق نے کہیں تھک کے میں جو ٹھہر گیا

مجھے پیری اور شباب میں جو ہے امتیاز تو اس قدرکوئی جھونکا باد سحر کا تھا مرے پاس سے جو گزر گیا

اثر اس کے عشوۂ ناز کا جو ہوا وہ کس سے بیاں کروںمجھے تو اجل کی ہے آرزو اسے وہم ہے کہ یہ مر گیا

تجھے اے خطیب چمن نہیں خبر اپنے خطبۂ شوق میںکہ کتاب گل کا ورق ورق تری بے خودی سے بکھر گیا

کسے تو سناتا ہے ہم نشیں کہ ہے عشوۂ دشمن عقل و دیںترے کہنے کا ہے مجھے یقیں میں ترے ڈرانے سے ڈر گیا

کروں ذکر کیا میں شباب کا سنے کون قصہ یہ خواب کایہ وہ رات تھی کہ گزر گئی یہ وہ نشہ تھا کہ اتر گیا

دل ناتواں کو تکان ہو مجھے اس کی تاب نہ تھی ذراغم انتظار سے بچ گیا تھا نوید وصل سے مر گیا

مرے صبر و تاب کے سامنے نہ ہجوم خوف و رجا رہاوہ چمک کے برق رہ گئی وہ گرج کے ابر گزر گیا

مجھے بحر غم سے عبور کی نہیں فکر اے مرے چارہ گرنہیں کوئی چارہ کار اب مرے سر سے آب گزر گیا

مجھے راز عشق کے ضبط میں جو مزہ ملا ہے نہ پوچھیےمے انگبیں کا یہ گھونٹ تھا کہ گلے سے میرے اتر گیا

نہیں اب جہان میں دوستی کبھی راستے میں جو مل گئےنہیں مطلب ایک کو ایک سے یہ ادھر چلا وہ ادھر گیا

اگر آ کے غصہ نہیں رہا تو لگی تھی آگ کہ بجھ گئیجو حسد کا جوش فرو ہوا تو یہ زہر چڑھ کے اتر گیا

تجھے نظمؔ وادئ شوق میں عبث احتیاط ہے اس قدرکہیں گرتے گرتے سنبھل گیا کہیں چلتے چلتے ٹھہر گیا

— نظم طباطبائی