7 اشعار

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو

Ye aah-e-be-asar kya ho ye nakhl-e-be-samar kya ho

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو

«یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہونہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو

بغل گیر آرزو سے ہیں مرادیں آرزو مجھ سےیہاں اس وقت تو اک عید ہے تم جلوہ گر کیا ہو

مقدر میں یہ لکھا ہے کٹے گی عمر مر مر کرابھی سے مر گئے ہم دیکھیے اب عمر بھر کیا ہو

مروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوںیہ سچ ہے نازنیں ہو خوبصورت ہو مگر کیا ہو

لگا کر زخم میں ٹانکے قضا تیری نہ آ جائےجو وہ سفاک سن پائے بتا اے چارہ گر کیا ہو

قیامت کے بکھیڑے پڑ گئے آتے ہی دنیا میںیہ مانا ہم نے مر جانا تو ممکن ہے مگر کیا ہو

کہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میںکہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو

— نظم طباطبائی