11 اشعار

یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ

Yun to na tere jism mein hain zinhar haath

یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ

«یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ» نظم طباطبائی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھدینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھ

انگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھشیشہ کی سمت بڑھتے ہیں بے اختیار ہاتھ

ڈوبے ہیں ترک سعی سے افسوس تو یہ ہےساحل تھا ہاتھ بھر پہ لگاتے جو چار ہاتھ

آتی ہے جب نسیم تو کہتی ہے موج بحریوں آبرو سمیٹ اگر ہوں ہزار ہاتھ

درپئے ہیں میرے قتل کے احباب اور میںخوش ہوں کہ میرے خون میں رنگتے ہیں یار ہاتھ

دامن کشاں چلی ہے بدن سے نکل کے روحکھنچتے ہیں پھیلتے ہیں جو یوں بار بار ہاتھ

مٹتا نہیں نوشتۂ قسمت کسی طرحپتھر سے سر کو پھوڑ کہ زانو پہ مار ہاتھ

ساقی سنبھالنا کہ ہے لبریز جام مےلغزش ہے میرے پاؤں میں اور رعشہ دار ہاتھ

مطرب سے پوچھ مسئلہ جبر و اختیارکیا تال سم پہ اٹھتے ہیں بے اختیار ہاتھ

میں اور ہوں علائق دنیا کے دام میںمیرا نہ ایک ہاتھ نہ اس کے ہزار ہاتھ

اے نظمؔ وصل میں بھی رہا تو نہ چین سےدل کو ہوا قرار تو ہے بے قرار ہاتھ

— نظم طباطبائی