بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیے
کلام: ندا فاضلی
بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیےاجنبی شہر ہے یہ دوست بناتے رہیے
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجیے رشتہدل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
بات کم کیجیے ذہانت کو چھپاتے رہیےاجنبی شہر ہے یہ دوست بناتے رہیے
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجیے رشتہدل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے
آئے گا کوئی چل کے خزاں سے بہار میںصدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں
چھڑتے ہی ساز بزم میں کوئی نہ تھا کہیںوہ کون تھا جو بول رہا تھا ستار میں