4 اشعار

دکھ میں نیر بہا دیتے تھے سکھ میں ہنسنے لگتے تھے

Dukh mein neer baha dete the sukh mein hansne lagte the

دکھ میں نیر بہا دیتے تھے سکھ میں ہنسنے لگتے تھے

«دکھ میں نیر بہا دیتے تھے سکھ میں ہنسنے لگتے تھے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دکھ میں نیر بہا دیتے تھے سکھ میں ہنسنے لگتے تھےسیدھے سادے لوگ تھے لیکن کتنے اچھے لگتے تھے

نفرت چڑھتی آندھی جیسی پیار ابلتے چشموں سابیری ہوں یا سنگی ساتھی سارے اپنے لگتے تھے

بہتے پانی دکھ سکھ بانٹیں پیڑ بڑے بوڑھوں جیسےبچوں کی آہٹ سنتے ہی کھیت لہکنے لگتے تھے

ندیا پربت چاند نگاہیں مالا ایک کئی دانےچھوٹے چھوٹے سے آنگن بھی کوسوں پھیلے لگتے تھے

— ندا فاضلی