4 اشعار

کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیں

Kacche bakhiye ki tarah rishte udhad jaate hain

کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیں

«کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

کچے بخیے کی طرح رشتے ادھڑ جاتے ہیںلوگ ملتے ہیں مگر مل کے بچھڑ جاتے ہیں

یوں ہوا دوریاں کم کرنے لگے تھے دونوںروز چلنے سے تو رستے بھی اکھڑ جاتے ہیں

چھانو میں رکھ کے ہی پوجا کرو یہ موم کے بتدھوپ میں اچھے بھلے نقش بگڑ جاتے ہیں

بھیڑ سے کٹ کے نہ بیٹھا کرو تنہائی میںبے خیالی میں کئی شہر اجڑ جاتے ہیں

— ندا فاضلی