5 اشعار

گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا

Garaj baras pyasi dharti par phir paani de Maula

گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا

«گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولاچڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا

دو اور دو کا جوڑ ہمیشہ چار کہاں ہوتا ہےسوچ سمجھ والوں کو تھوڑی نادانی دے مولا

پھر روشن کر زہر کا پیالہ چمکا نئی صلیبیںجھوٹوں کی دنیا میں سچ کو تابانی دے مولا

پھر مورت سے باہر آ کر چاروں اور بکھر جاپھر مندر کو کوئی میراؔ دیوانی دے مولا

تیرے ہوتے کوئی کسی کی جان کا دشمن کیوں ہوجینے والوں کو مرنے کی آسانی دے مولا

— ندا فاضلی