5 اشعار

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا

Aaj zara fursat paai thi aaj use phir yaad kiya

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا

«آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیابند گلی کے آخری گھر کو کھول کے پھر آباد کیا

کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سےرنگ اڑائے پھول کھلائے چڑیوں کو آزاد کیا

بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میںچھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا

بات بہت معمولی سی تھی الجھ گئی تکراروں میںایک ذرا سی ضد نے آخر دونوں کو برباد کیا

داناؤں کی بات نہ مانی کام آئی نادانی ہیسنا ہوا کو پڑھا ندی کو موسم کو استاد کیا

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں