6 اشعار

ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو

Har ek ghar mein diya bhi jale anaaj bhi ho

ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو

«ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہواگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو

رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالیہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہو

نہ کرتے شور شرابہ تو اور کیا کرتےتمہارے شہر میں کچھ اور کام کاج بھی ہو

حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیںحکومتیں جو بدلتا ہے وہ سماج بھی ہو

بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میںمرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو

اکیلے غم سے نئی شاعری نہیں ہوتیزبان میرؔ میں غالبؔ کا امتزاج بھی ہو

— ندا فاضلی