6 اشعار

جسے دیکھتے ہی خماری لگے

Jise dekhte hi khumari lage

جسے دیکھتے ہی خماری لگے

«جسے دیکھتے ہی خماری لگے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

جسے دیکھتے ہی خماری لگےاسے عمر ساری ہماری لگے

اجالا سا ہے اس کے چاروں طرفوہ نازک بدن پاؤں بھاری لگے

وہ سسرال سے آئی ہے مائکےاسے جتنا دیکھو وہ پیاری لگے

حسین صورتیں اور بھی ہیں مگروہ سب سیکڑوں میں ہزاری لگے

چلو اس طرح سے سجائیں اسےیہ دنیا ہماری تمہاری لگے

اسے دیکھنا شعر گوئی کا فناسے سوچنا دین داری لگے

— ندا فاضلی