5 اشعار

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے

Kabhi kabhi yun bhi hum ne apne jee ko bahlaya hai

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے

«کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہےجن باتوں کو خود نہیں سمجھے اوروں کو سمجھایا ہے

ہم سے پوچھو عزت والوں کی عزت کا حال کبھیہم نے بھی اک شہر میں رہ کر تھوڑا نام کمایا ہے

اس کو بھولے برسوں گزرے لیکن آج نہ جانے کیوںآنگن میں ہنستے بچوں کو بے کارن دھمکایا ہے

اس بستی سے چھٹ کر یوں تو ہر چہرہ کو یاد کیاجس سے تھوڑی سی ان بن تھی وہ اکثر یاد آیا ہے

کوئی ملا تو ہاتھ ملایا کہیں گئے تو باتیں کیںگھر سے باہر جب بھی نکلے دن بھر بوجھ اٹھایا ہے

— ندا فاضلی