جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہم
کلام: ندا فاضلی
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہمخود اپنے آئنے کو لگے اجنبی سے ہم
کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگےملنے گئے کسی سے مل آئے کسی سے ہم
ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی
مہمان شاعر: ندا فاضلی
جب سے قریب ہو کے چلے زندگی سے ہمخود اپنے آئنے کو لگے اجنبی سے ہم
کچھ دور چل کے راستے سب ایک سے لگےملنے گئے کسی سے مل آئے کسی سے ہم
کہیں کہیں سے ہر چہرہ تم جیسا لگتا ہےتم کو بھول نہ پائیں گے ہم ایسا لگتا ہے
ایسا بھی اک رنگ ہے جو کرتا ہے باتیں بھیجو بھی اس کو پہن لے وہ اپنا سا لگتا ہے
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمیپھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوااپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرامیں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا
کس سے پوچھوں کہ کہاں گم ہوں کئی برسوں سےہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا