13 اشعار

خدا کا گھر نہیں کوئی

Khuda Ka Ghar Nahin Koi

خدا کا گھر نہیں کوئی

«خدا کا گھر نہیں کوئی» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے گلشن شیرازی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

خدا کا گھر نہیں کوئیبہت پہلے ہمارے گاؤں کے اکثر بزرگوں نے

اسے دیکھا تھاپوجا تھا

یہیں تھا وہیہیں بچوں کی آنکھوں میں

لہکتے سبز پیڑوں میںوہ رہتا تھا

ہواؤں میں مہکتا تھاندی کے ساتھ بہتا تھا

ہمارے پاس وہ آنکھیں کہاں ہیںجو پہاڑی پر

چمکتیبولتی

آواز کو دیکھیںہمارے کان بہرے ہیں

ہماری روح اندھی ہےہمارے واسطے

اب پھول کھلتے ہیںنہ کونپل گنگناتی ہے

نہ خاموشی اکیلے میں سنہرے گیت گاتی ہےہمارا عہد!

ماں کے پیٹ سے اندھا ہے بہرا ہےہمارے آگے پیچھے

موت کا تاریک پہرا ہے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں