5 اشعار

کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے

Koi Hindu koi Muslim koi Eesaai hai

کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے

«کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « ہوش والوں کو خبر کیا بےخودی کیا چیز ہے ندا فاضلی» میں 2 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہےسب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے

اتنی خوں خار نہ تھیں پہلے عبادت گاہیںیہ عقیدے ہیں کہ انسان کی تنہائی ہے

تین چوتھائی سے زائد ہیں جو آبادی میںان کے ہی واسطے ہر بھوک ہے مہنگائی ہے

دیکھے کب تلک باقی رہے سج دھج اس کیآج جس چہرہ سے تصویر اتروائی ہے

اب نظر آتا نہیں کچھ بھی دکانوں کے سوااب نہ بادل ہیں نہ چڑیاں ہیں نہ پروائی ہے

— ندا فاضلی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں