5 اشعار

میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

Main apne ikhtiyar mein hoon bhi nahin bhi hoon

میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

«میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوںدنیا کے کاروبار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

تیری ہی جستجو میں لگا ہے کبھی کبھیمیں تیرے انتظار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

فہرست مرنے والوں کی قاتل کے پاس ہےمیں اپنے ہی مزار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

اوروں کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیںاک میں ہی اس دیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

مجھ سے ہی ہے ہر ایک سیاست کا اعتبارپھر بھی کسی شمار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

— ندا فاضلی