4 اشعار

مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں

Mutthi bhar logon ke hathon mein lakhon ki taqdiren hain

مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں

«مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیںجدا جدا ہیں دھرم علاقے ایک سی لیکن زنجیریں ہیں

آج اور کل کی بات نہیں ہے صدیوں کی تاریخ یہی ہےہر آنگن میں خواب ہیں لیکن چند گھروں میں تعبیریں ہیں

جب بھی کوئی تخت سجا ہے میرا تیرا خون بہا ہےدرباروں کی شان و شوکت میدانوں کی شمشیریں ہیں

ہر جنگل کی ایک کہانی وہ ہی بھینٹ وہی قربانیگونگی بہری ساری بھیڑیں چرواہوں کی جاگیریں ہیں

— ندا فاضلی