5 اشعار

سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھنا

Safar ko jab bhi kisi dastaan mein rakhna

سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھنا

«سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھنا» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھناقدم یقین میں منزل گمان میں رکھنا

جو ساتھ ہے وہی گھر کا نصیب ہے لیکنجو کھو گیا ہے اسے بھی مکان میں رکھنا

جو دیکھتی ہیں نگاہیں وہی نہیں سب کچھیہ احتیاط بھی اپنے بیان میں رکھا

وہ ایک خواب جو چہرہ کبھی نہیں بنتابنا کے چاند اسے آسمان میں رکھنا

چمکتے چاند ستاروں کا کیا بھروسہ ہےزمیں کی دھول بھی اپنی اڑان میں رکھنا

— ندا فاضلی