5 اشعار

یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہے

Yun lag raha hai jaise koi aas paas hai

یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہے

«یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہے» ندا فاضلی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

یوں لگ رہا ہے جیسے کوئی آس پاس ہےوہ کون ہے جو ہے بھی نہیں اور اداس ہے

ممکن ہے لکھنے والے کو بھی یہ خبر نہ ہوقصے میں جو نہیں ہے وہی بات خاص ہے

مانے نہ مانے کوئی حقیقت تو ہے یہیچرخہ ہے جس کے پاس اسی کی کپاس ہے

اتنا بھی بن سنور کے نہ نکلا کرے کوئیلگتا ہے ہر لباس میں وہ بے لباس ہے

چھوٹا بڑا ہے پانی خود اپنے حساب سےاتنی ہی ہر ندی ہے یہاں جتنی پیاس ہے

— ندا فاضلی